213

آزادکشمیرمیں ان اخبارات کے نمائندگان کورکنیت نہیں مل سکتی، پریس فائونڈیشن کی رکنیت کیلئے تعلیمی قابلیت اورعمرمقررکردی گئی

مظفرآباد(اسلام آباداپ ڈیٹس) آزاد جموں و کشمیر پریس فاؤنڈیشن ایکٹ 2003ء میں ہونے والی حالیہ ترامیم میں صحافیوں کو پہلے سے زیادہ بااختیار اور باوقار بنایا گیا ہے۔ ان ترامیم کے مطابق الیکٹرانک میڈیا اور فوٹو گرافرز / کیمرہ مین کی ممبرشپ کو ایکٹ میں تحفظ دیا گیا ہے۔ پندرہ روزہ، ماہنامہ، سہ ماہی اور شش ماہی اخبارات کے نمائندگان رکنیت حاصل نہیں کر سکیں گے۔ رکنیت کیلئے بنیادی تعلیمی قابلیت بی اے کے ساتھ 3 سالہ تجربہ لازمی قرار دیا گیا ہے۔ رکنیت کیلئے عمر کی حد 45 سال مقرر کی گئی ہے۔ پہلے صرف ممبر کی وفات پر فاؤنڈیشن کی جانب سے مالی امداد دی جا سکتی تھی جبکہ اب زیر کفالت افراد کی وفات پر مالی امداد کو بھی شامل کر دیا گیا ہے۔ فاؤنڈیشن فنڈ سے حج کروانے کی شق کو نکال دیا گیا ہے، حج کیلئے مختص رقم صحافیوں کے بچوں کو قرآن کے ناظرہ، حفظ اور ترجمہ کی تعلیم پر خرچ کی جائے گی۔ پریس کلبوں اور دیگر میڈیا کے اداروں کو رجسٹرڈ کرنے اور انہیں حکومت کی جانب سے گرانٹ کی فراہمی بھی فاؤنڈیشن ایکٹ کا حصہ بنا دی گئی ہے۔ صحافیوں کو ممبر شپ پر بہت بڑا اعتراض تھا جسے دور کرنے کیلئے فل ٹائم اور پارٹ ٹائم کام کرنے والے صحافیوں کی کیٹگریز بنا دی گئی ہیں۔ اب ایسے تمام صحافی جو بزنس کرتے ہیں یا اخبارات کے مالک / چیف ایڈیٹر ہیں فاؤنڈیشن کے ممبر بن سکیں گے۔ بیٹے اور بیٹی کی شادی پر زندگی میں ایک مرتبہ مالی امداد دیئے جانے کو سال میں ایک مرتبہ سے تبدیل کیا گیا ہے۔ اب کوئی بھی ممبر سال میں ایک دفعہ ہر بیٹے، بیٹی کی شادی پر مالی امداد حاصل کر سکے گا۔ بورڈ آف گورنرز کے اجلاس میں سیکرٹری مالیات کی جگہ محکمہ مالیات سے گریڈ 19 کا کوئی بھی آفیسر ان کے متبادل کے طور پر شامل کر دیا گیا ہے۔ سابقہ ایکٹ میں آزاد کشمیر کے 7 اضلاع کے ممبران شامل تھے جبکہ مجوزہ ترامیم میں اضلاع کی تعداد ختم کرتے ہوئے اسے اوپن کر دیا گیا ہے اب آزاد کشمیر میں جتنے بھی اضلاع بنتے جائیں گے بورڈ کے ممبران میں از خود اضافہ ہوتا جائے گا۔ نئی ترامیم کے مطابق چیئرمین پریس فاؤنڈیشن بورڈ آف گورنرز کے نصف ممبران کی ریکوزیشن پر بورڈ کا اجلاس طلب کریں گے۔ ممبران سے فیس وصول کرنے کا طریقہ کار ماہانہ کی بجائے سالانہ بنیادوں پر کر دیا گیا ہے، پہلے ہر ماہ فیس جمع کرانا لازمی تھی۔ پریس کلب ہاء اور دیگر میڈیا اداروں کی رجسٹریشن کا اختیار بھی ترمیم کا حصہ ہے جس کے لیے رولز اور ضابطہ اخلاق پریس کلبوں اور دیگر میڈیا اداروں کے ذمہ داران کی مشاورت سے مرتب کیے جائیں گے۔ آزاد کشمیر میں مختلف ناموں سے صحافتی ادارے، این جی اوز، ویب چینلز اور ٹرسٹ وغیرہ بنتے رہتے ہیں جنہیں قانون قاعدے میں لانے کیلئے ان کی بھی رجسٹریشن لازمی قرار دی گئی ہے۔ پریس / میڈیا کے نام سے بننے والے اداروں کو صحافیوں کیلئے خدمات ثابت کرنا ہوں گی۔ کوڈ آف کنڈکٹ پر سزا و جزا کا اختیار ایکریڈیٹیشن کمیٹی کو حاصل تھا اس طرح میڈیا کے خلاف مختلف عدالتوں میں مقدمات ہوتے تھے۔ گزشتہ دور حکومت میں ہتک عزت کا قانون حکومت کے ساتھ اس معاہدے پر واپس کروایا گیا تھا کہ فاؤنڈیشن خود سزا و جزا کا تعین کرے گی۔ اب یہ معاملہ فاؤنڈیشن مانیٹرنگ کمیٹی کے سپرد ہو گا جس کا سربراہ بورڈ آف گورنرز کا ممبر / صحافی ہو گا جبکہ ممبران میں ایک ممبر ایکریڈیٹیشن کمیٹی، متعلقہ ضلع سے انفارمیشن آفیسر، متعلقہ ڈویژن سے سینئر صحافی اور معاون فاؤنڈیشن شامل ہونگے اور اس طرح صحافیوں کے معاملات چاہے وہ کسی بھی نوعیت کے ہوں نہ تو وہ عدالتوں میں جائیں گے اور نہ ہی اس میں کوئی سرکاری مداخلت ہو گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں