63

وینزویلا میں سیاسی کشیدگی نے دنیا کی بڑی طاقتوں کو آمنے سامنے لاکھڑا کردیا،تنازعے میں روس کی دھماکہ خیز انٹری،خانہ جنگی کا خطرہ بڑھ گیا

کراکس (ویب ڈیسک)وینزویلا میں صدر نیکولس مدورو اور اپوزیشن لیڈر جووان گوائیڈو کے درمیان پیدا ہونے والے صدارتی تنازع پر روس اور امریکا سمیت یورپی ممالک اور دنیا کی بڑی طاقتیں آمنے سامنے آگئی ہیں۔ مدورو کے اہم اتحادی روس نے یورپی ممالک کی جانب سے جووان گوئیڈو کی حمایت کو تیل کی دولت سے مالامال وینزویلا کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کی ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ وینزویلا میں جعلی طاقت کو قانونی شکل دینے کی کوشش ہے۔دوسری جانب امریکا، کینیڈا اور آسٹریلیا سمیت لاطینی امریکا کے دیگر کئی ممالک پہلے ہی جووان گوئیڈو کوتسلیم کرچکے ہیں جو سوشلسٹ رہنما مدورو کو حکومت سے باہر کرکے نئے صدارتی انتخابات کے بعد حکومت حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے گوئیڈو کو باقاعدہ تسلیم کرنے کے بعد قومی اسمبلی کے سربراہ 35 سالہ گوئیڈو پر زور دیا تھا کہ وہ جلد سے جلد انتخابات کا اعلان کریں جو جمہوری اور شفاف ہوں۔سانچیز کا کہنا تھا کہ اسپین یورپین یونین اور اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر وینزویلا میں انسانی بنیادوں پر امداد کے منصوبے کے لیے تیار ہے۔برطانیہ کی سیکریٹری خارجہ جیریمی ہنٹ نے بھی گوئیڈو کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ توقع ہے کہ ‘اس قدم سے انسانی بحران کے خاتمے کے قریب پہنچیں گے’۔یورپی یونین کے دیگر ممالک میں فرانس، جرمنی، پرتگال، آسٹریا، سویڈن، ڈنمارک، لٹوویا، لتھواینا، فن لینڈ اور نیدرلینڈز نے بھی جووان گوئیڈو کو تسلیم کرلیا ہے۔فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون کا کہنا تھا کہ ‘وینزویلا کو اپنے حق کا آزادانہ اور جمہوری انداز میں اظہار کا حق ہے’۔یاد رہے کہ جووان گوئیدو نے گزشتہ ماہ خود کو قائم مقام لیڈر قرار دیا تھا جس کی حمایت امریکا نے بھی کردی تھی۔ نیکولس مدورو نے کا کہنا تھا کہ برطانیہ اور 7 یورپی ممالک کی جانب سے جووان گوئیڈو کو وینزویلا کا لیڈر تسلیم کرنے کے بعدوہ ملک میں خانہ جنگی کے خدشے کو خارج ازامکان قرار نہیں دے سکتے۔مدورو نے ہسپانوی ٹی وی دیے گئے ایک انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خبردار کیا کہ اگرامریکا نے اس تنازع میں مداخلت کی کوشش کی تو وہ ‘وائٹ ہئاوس کو خون سے لت پت کردیں گے’۔انہوں نے یورپی ممالک کی جانب سے نئے صدارتی انتخابات کے لیے دی گئی ڈیڈ لائن کو بھی نظر انداز کردیا۔وینزویلا کے صدر نے انٹرویو میں کہا کہ ‘میں کسی جانب سے دیے گئے الٹی میٹم کو قبول نہیں کرتا،عالمی سیاست کی بنیاد الٹی میٹم پر نہیں ہوتی تو پھر یورپین یونین کسی ملک کو کیسے حکم دے رہے ہیں’۔یورپین یونین کی جانب سے دی گئی ڈیڈ لائن اتوار کو ختم ہوچکی ہے جس کے بعد رکن ممالک نے گوئیڈو کے موقف کو تسلیم کرلیا۔مدورو نے گوئیڈو کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ‘وینزویلا کا ایک ہی صدر ہے اور اس ا?دمی کے پاس کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے جبکہ یہ ایک مذاق ہے کہ خود صدر قرار دیا جائے اس لیے ان کے پاس کوئی ا?ئینی، قانونی، نمائشی یا باقاعدہ طور پر کوئی جواز نہیں ہے’۔یورپی ممالک کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘وہ ہمیں تقسیم کررہے ہیں اور مداخلت کرکے ایک بغل بچہ حکومت کو تھونپنا چاہتے ہیں، وہ بین الاقوامی میڈیا میں تاثر دینا چاہتے ہیں کہ متوازی حکومتیں موجود ہیں لیکن حقیقت میں ایسا وجود نہیں ہے’۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں