78

ڈیل معاملات سے واقف، اشارہ دیا تو کچھ کی جگ ہنسائی اور کچھ کی عزت ہوگی، چوہدری نثار

اسلام آباد(ویب ڈیسک)سابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے کہا ہے کہ ڈیل معاملات سے واقف، اشارہ دیا،تو کچھ کی جگ ہنسائی اور کچھ کی عزت ہوگی، ڈیڑھ سال کے حالات و واقعات بتائوں تو تہلکہ مچ جائے،نیوز ٹیکس اتنا بڑا مسئلہ نہیں جتنا بنا دیا گیا،موجودہ حکومت کو اسٹیبلشمنٹ کی مکمل حمایت حاصل ہے، اسٹیبلشمنٹ ساتھ ہو تو اکثریت نہ رکھنے والی حکومتیں بھی مدت پوری کرلیتی ہیں،پاناما لیکس سازش نہیں تھی،پیپرز بین الاقوامی طور پر لیک ہوئے، پاکستان میں جنگ جیو کے ذریعے تشہیر ہوئی جو نواز مخالف نہیں تھے،وفاداری صحیح بات کرنے میں ہے ناں کہ چاپلوسی میں ،عمران خان کچھ بڑا کرنا چاہتے ہیں تو بہت ساری چیزوں کو نظر انداز کر کے قوم کو یکجا کریں اسی میں پاکستان اور عمران خان دونوں کی بہتری ہے۔وہ جیو نیوز کے پروگرام ’جیو پارلیمنٹ‘ میں ارشد وحید چوہدری سے خصوصی گفتگوکر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ استعفیٰ دینے کی وجہ ایک یہ بھی تھی کہ شاہد خاقان عباسی کے نیچے کام نہیں کرسکتا تھا،پچھلے ڈیڑھ سال کے حالات وواقعات پر اگر روشنی ڈال دوں تو تہلکہ مچ جائے میاں نواز شریف سے کئی دفعہ کہا کہ آپ کے بیانات نیک نیتی پر مبنی ہوں گے مگر یہ پاکستان کے خلاف استعمال ہوں گے اور آج وہی ہوا جو نواز شریف نے جو بیان دیا اس کا سیاق و سباق کچھ اور تھا لیکن ہندوستان میں اس کو کسی اورطریقے سے اٹھایا گیا مطلب یہ ہوا کہ مودی نہ نواز شریف کا دوست تھا نہ پاکستان کا ،صوبائی اسمبلی میں حلف لینے کا مطلب ہے کہ قومی اسمبلی کے نتائج قبول کرلوں میں نے صوبائی کے لئے کبھی ووٹ نہیں مانگا لیکن میں جیتا ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ لوگوں نے صوبائی میں ووٹ دیا لیکن قومی میں نہیں دیا۔نواز شریف صرف اپوزیشن میں ہوتے ہوئے سویلین بالادستی چاہتے ہیں اور انہیں اپوزیشن میں ایسی باتیں اچھی لگتی ہے اور جب یہ اقتدار میں ہوتے ہیں تو سویلین بالا دستی کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھاتے تھے حالانکہ اقتدار میں ہوتے ہوئے بہتر پوزیشن ہوتی ہے سویلین بالادستی پر عملدرآمد کروائی جائے۔انہوں نے کہا کہ پانامہ لیکس سازش نہیں تھی کیوں کہ جو بھی پیپرز لیک ہوئے بین الاقوامی طور پر ہوئے وہ صرف پاکستان کے حوالے سے نہیں تھے ۔اُنہوں نے مزید کہا کہ نیوزلیکس اتنا بڑا مسئلہ نہیں تھا جتنا بنا دیا گیا میں نے اپنے طور پر تحقیق کی اس کے بعد کمیٹی بنی کمیٹی نے تحقیقات کے بعد رپورٹ دی۔ ایک مشکل امر تھا تھوڑا بدانتظامی کی نظر ہوگیا جو انٹرسٹڈ کوارٹرز تھے انہوں نے ضرورت سے زیادہ اس کو استعمال کیا ایکسپلائٹ کیا حکومت کے خلاف ، میرا خیال ہے نیوزلیکس پر زیادہ لاگو ہوتا ہے کہ ایک ایشو کو بالکل الگ تناظر میں کر کے تلخی بھی پید اکی گئی اور بدمزگی بھی پیدا کی گئی۔ اداروں کے خلاف جانے کی ہمیشہ مخالفت کی اگر آپ کو ایک عدالت میں انصاف نہیں ملتا تو دوسری عدالت میں مل سکتا ہے ۔نواز شریف نے شاہد خاقان کو منتخب کیا تو سب سے پہلے مجھے پوچھا میں نے حامی بھری اور ایک دو جو اُس انتخاب سے مطمئن نہیں تھے انہیں قائل بھی کیا بطور وزیراعظم میں نے مکمل طور پر انہیں سپورٹ کیا میں نے کبھی گروپ بنانے میں یا مسلم لیگ نون کو نقصان پہنچانے میں دلچسپی نہیں لی پارلیمنٹ کے آج کل کے حالات سے انتہائی دکھ ہے گالم گلوچ، یہ زبان پارلیمنٹ کے شایان شان ہےنا پارلیمنٹرین کے میں اس کا ذمہ دار تمام پارٹی لیڈرز اور سب سے بڑھ کر حکومتی لیڈرز کو سمجھتا ہوں الیکشن پر بہت سے سوالات ہیں اس سے پہلے ایک حکومت گزری ہے جس کے پاس اکثریت نہیں تھی لیکن وہ پانچ سال پورے کر گئے وہ مسلم لیگ ق کی حکومت تھی اُس وقت مسلم لیگ ق اور اسٹیبلشمنٹ ایک تھی یہ اس ملک کی بدقسمتی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ حکومت کے ساتھ ٹھیک ہو تو وہ اکثریت نہ ہونے کے باوجود مدت پوری کرلیتی ہے اور دو تہائی اکثر یت رکھنے والی حکومت چاہے وجہ کوئی بھی اسٹیبلشمنٹ سے اختلافات ہوں یا کوئی اور وجہ ہو وہ مدت پوری نہیں کر پاتی اس حوالے سے ایک مثبت چیز جو حکومت کے ساتھ ہے وہ یہ ہے کہ موجودہ اسٹیبلشمنٹ موجودہ حکومت کی مکمل سپورٹ کر رہی ہے مسلم لیگ نون مزاحمتی جماعت نہیں لیکن ثابت قدم ضرور ہے اس کا ووٹر سپورٹر ساتھ دیتے ہیں مزاحمتی پارٹیاں پاکستان سے ختم ہوگئیں اب کوئی مزاحمتی پارٹی نہیں ہے نواز شریف اور میرے درمیان فاصلے کا ذمہ دار اپنے اُصولوں کو سمجھتا ہوں میں سیاست عزت کے لئے کرتا ہوں غلطیاں ضرور ہوتی ہیں سیاست دین ایمان نہیں ہوتی اونچ نیچ آتی رہتی ہے گزشتہ پینتیس سال میں یقینا اونچ نیچ آتی رہی تفتیش کی بات تب ہوتی جب اپنے ضمیر کا بوجھ نہ اٹھا پاتا میں اپنے معاملات سے بہت مطمئن ہوں ۔ موجودہ قومی اسمبلی میں آپ کا نا ہونا مسلم لیگ نون ناراضگی کا سبب یا کسی اور کی بھی ناراضگی کی وجہ ہے ؟ اس کے جواب میں چوہدری نثار نے کہا کہ شاید دونوں کا تعلق ہے جہاں تک مسلم لیگ نون کی بات ہے انہوں نے دونوں سیٹوں پر میرے مقابلے میں امیدوار کھڑے کیے اور دونوں امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہوئیں شاید یہ بڑی وجہ نہ رہی ہو لیکن میری جو اپنی سوچ اور مزاج ہے اس کو بڑی وجہ سمجھتا ہوں۔ تحریک انصاف نے آپ کو شمولیت کی دعوت دی اُس میں شامل نہ ہونا بھی آپ کی قومی اسمبلی میں نہ ہونے کی وجہ ہوسکتی ہے اس پر سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ میرے حلقے میں تحریک انصاف کا زور نہیں تھا مگر میرے قومی اسمبلی میں ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے۔کلثوم نواز کا جب انتقال ہوا تو لندن میں ہی تھا اور میں نے نمازِ جنازہ میں شرکت کی اور رائیونڈ جانا ضروری نہیں سمجھا عین ممکن تھا کہ چند عناصر اُس کو سیاسی رنگ دیتے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں