77

ضمانت مسترد، نواز شریف جیل منتقل، غیرمعمولی حالات کا کیس نہیں

اسلام آباد، (مانیٹرنگ ڈیسک،) اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی طبی بنیادوں پر سزا معطلی اور ضمانت کی درخواست مسترد کردی۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ غیر معمولی حالات کا کیس نہیں ہے، بہترین طبی سہولتیں دی جارہی ہیں، بیماری کے باعث سزا معطل نہیں ہوسکتی۔ درخواست ضمانت مسترد ہونے کے بعد نوازشریف کو سپتال سے جیل منتقل کر دیا گیا۔جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل اسلام آباد ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے فیصلہ سنایا ۔ عدالت نے ابتدا میں انتہائی مختصر فیصلہ سنایا اور سابق وزیراعظم کی درخواست کو مسترد کردیا تاہم بعد ازاں 9 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا گیا۔ فیصلے میں کہا گیا ہےکہ نوازشریف کو علاج معالجے کی سہولیات دستیاب ہیں، یہ کیس غیر معمولی حالات کا نہیں بنتا، نوازشریف کے معاملے میں مخصوص حالات ثابت نہیں ہوئے، سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلوں کے نتیجے میں ضمانت نہیں دی جا سکتی۔’قیدی کا جیل یا ہسپتال میں علاج ہو رہا ہو تو ضمانت کا حق دار نہیں‘فیصلے میں مزید کہا گیا ہےکہ سپرنٹنڈنٹ جیل کے پاس بیمار قیدی کو ہسپتال منتقل کرنےکا اختیار ہے، نوازشریف کے کیس میں قانون کے تحت جب ضرورت پڑی ہسپتال منتقل کیاگیا، عدالتی نظیریں موجود ہیں ۔فیصلے میں کہا گیا ہےکہ نواز شریف کو پاکستان میں دستیاب بہترین طبی سہولیات مہیا کی جارہی ہیں، پیش کردہ حقائق کے مطابق نوازشریف کا کیس انتہائی غیر معمولی نوعیت کا نہیں۔فیصلے میں شرجیل میمن کیس کا حوالہ دیا گیاعدالتی فیصلے میں شرجیل میمن سمیت مختلف عدالتی فیصلوں کے حوالہ جات بھی پیش کیے گئے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست گزار کو دل، گردوں، بلند فشار خون اور ذیابطیس کا مسئلہ ہے، ڈاکٹرز کی رپورٹ تجویز نہیں کرتیں کہ درخواست گزار کی قید ان کی زندگی کیلئےنقصان دہ ہے، کسی بھی بیماری سےجان کو خطرہ ہوسکتا ہے تاہم بہتر علاج ہو تو ایسا نہیں ہوگا۔فیصلے میں مزید کہا گیاہے کہ میڈیکل بورڈ کے مطابق درخواست گزار کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں لہٰذا کیس کو غیر معمولی حالات اور شدید مشکلات سے دوچار تصور نہیں کیا جاسکتا، اس بنیاد پر ضمانت پر رہائی نہیں دی جاسکتی اور بیماری کے باعث سزا معطلی کی درخواست میں مواد نہیں ہے۔ عدالتی فیصلے کے مطابق درخواست گزار کی صحت 15 جنوری کوخراب ہوئی جس کے بعد یہ درخواست دائر کی گئی، درخواست میرٹ پر نہیں ہے لہٰذا اسے مسترد کیا جاتا ہے۔فیصلہ سنائے جانے کے موقع پر عدالت میں مسلم لیگ (ن)کے رہنمائوں اور کارکنوں کی بڑی تعداد موجود تھی جبکہ عدالت کے باہر سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے تھے۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے 20فروری کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ دوسری جانب نواز شریف کو ضمانت کی درخواست مسترد ہونے کے بعد میڈیکل بورڈ کی سفارشات کی روشنی میں محکمہ داخلہ پنجاب نے جناح اسپتال لاہور سے 11روز کے بعد کوٹ لکھپت جیل منتقل کر دیا ۔اس سے قبل پیر کے روز بھی اسپتال میں نواز شریف کا معمول کے مطابق معائنہ ہو ا، ڈاکٹروں کی ٹیم نے شوگر اور بلڈ پریشر چیک کیا جبکہ بعدازاں شہبازشریف مریم نواز اور ڈاکٹر عدنان نے نوازشریف سے ملاقات کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں