33

فیض آباد دھرنا کیس کا تحریری فیصلہ آگیا

سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرنا کیس کا 43 صفحات پرمشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا ۔

سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس مشیر عالم پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے 22 نومبر کو فیض آباد دھرنے کا فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ازخود نوٹس کیس کا فیصلہ سنانا مشکل کام ہے، تفصیلی فیصلہ ویب سائٹ پر جاری کیا گیا ہے۔سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر جاری 43 صفحات پرمشتمل تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ہر شخص کو قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے سیاسی جماعت بنانے کا حق ہے، ہر شخص یا جماعت کو پر امن احتجاج کرنے کا حق حاصل ہے، احتجاج کے دوران سڑکیں بند اور توڑ پھوڑ کرنے والوں کیخلاف لازمی کارروائی ہونی چاہئے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن متعلقہ قوانین پر عملدرآمد نہ کرنے والی سیاسی جماعت کیخلاف کارروائی کرے، فیصلہ قانون کے تحت الیکشن کمیشن کی کارروائی رسمی نہیں ہونی چاہیے، ہر سیاسی جماعت اپنے ذرائع آمدن سے متعلق جواب دہ ہے۔تحریری فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ریاست کا رویہ غیر جانبدار اور شفاف ہونا چاہیے، قانون کا اطلاق حکومت اور حکومتی اداروں پر یکساں طور پر ہوتا ہے، سانحہ 12 مئی کے ذمہ دار حکومتی عہدیداروں کو سزا نہ ملنے سے غلط روایت پڑی، سانحہ 12 مئی، ریاست کی ناکامی نے دیگر لوگوں کو اپنے مقصد کیلئے تشدد کی راہ دکھائی۔

واضح رہےسپریم کورٹ نےاسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم فیض آباد پر تحریک لبیک یا رسول کی جانب سے دیئے گئے دھرنے پر از خود نوٹس لیا تھا، مقدمےکی سماعت کے دوران عدالت نے حساس اداروں اور پولیس سے متعدد رپورٹس طلب کیں تھیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں