78

حکومت نواز شریف کو علاج کیلئے باہر جانے کی اجازت دینے کو تیار، کتنے ارب کی کرپشن کی ہے جوپلی بارگین کے ذریعے واپس کی جاسکے گی،حیرت انگیز انکشافات

لاہور(ویب ڈیسک)وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے نواز شریف کو علاج معالجے کی بہترین سہولت فراہم کی گئی ہے لیکن وہ صرف لندن جانے کیلئے بضد ہیں ،حکومت نے نواز شریف کو علاج کی سہولیات کیلئے غیر معمولی اقداما ت اٹھائے ہیں اور اس سے زیادہ ممکن نہیں ،اگر نواز شریف باہر ہی جا کر علاج کرانا چاہتے ہیں تو ان کے پاس پلی بار گین کاآپشن موجود ہے او ران کی تقریباً300ارب کی کرپشن ہے ،جب تک نواز شریف عوام کا پیسہ واپس نہیں کرتے انشا اللہ نواز شریف کو کچھ نہیں ہوگا ،ایون فیلڈ میں فرار ی کیمپ کھلا ہوا ہے اور جو پاکستان سے جاتا ہے وہاں جا کر بیٹھ جاتا ہے ،حکومت کو اس وقت کوئی سیاسی چیلنج نہیں ،نواز شریف کے معاملے میں میڈیا کی وجہ سے بلیک میل ہو رہے ہیں، اگر (ن) لیگ نواز شریف کی صحت پر سیاست سیاست کھیلنا چاہتی ہے تو یہ اسکی اپنی مرضی ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ میں نواز شریف کی صحت سے متعلق صوبائی وزراء ڈاکٹر یاسمین راشد ، میاں اسلم اقبال،وزیر اعلیٰ کے ترجمان ڈاکٹر شہباز گل ، پی آئی سی اور جناح کے پروفیسرز کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ فواد چوہدری نے کہا کہ ڈاکٹرز نے ہسپتال جا کر نواز شریف کا چیک اپ کیا اور مختلف ٹیسٹ کئے گئے ۔ ڈاکٹرز کی سفارشا ت تھیں کہ ان کے پی آئی سی میں ٹیسٹ کئے جائیں جس کیلئے انہیں22جنوری کو پی آئی سی منتقل کیا گیا ،پی آئی سی میں ان کی ایکو گرافی اور تھیلیم سکین کیا گیا اور اسی دن وہ دوبارہ جیل چلے گئے ، چھ ممبران پر مشتمل میڈیکل بورڈ جس میں پی آئی سی لاہور، راولپنڈی کے علاوہ اے ایف آئی سی کے نامزد ڈاکٹرز شامل نے نواز شریف سے جیل میں ملاقات کی ۔ میڈیکل بورڈ کی ایڈوائس پر انہیں ہسپتال منتقل کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی بیماریوں کی ہسٹری ہے ، 2001اور 2017میں ان کی اینجیو پلاسٹی ہوئی ،2016ء میں بائی پاس ہو ا۔ نواز شریف اور انکی فیملی چاہتے ہیں کہ انہیں علاج کے لئے لندن بھیجا جائے ۔یہاں کے ڈاکٹروں کی وجہ سے نواز شریف کے مرض میں کوئی پیچیدگی نہیں آئی بلکہ انہوں نے لندن میں جن ڈاکٹروں سے علاج کرایا ان کی وجہ سے پیچیدگی پیدا ہوئی ۔ انہوں نے کہا کہ میڈیکل بورڈ کی سفارشات پر انہیں سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا ،نواز شریف کو دل کے عارضے کے ساتھ گردوں اور شوگر کا بھی مرض ہے اس لئے پنجاب حکومت نے نیک نیتی کے ساتھ یہ فیصلہ کیا انہیں اس ہسپتال میں منتقل کیا جائے جہاں تمام امراض کا علاج ہو ، پی آئی سی اور سروسز کا ایک ہی کمپاؤنڈ بنتا ہے جس میں صرف ایک دیوار کا فاصلہ ہے ۔نواز شریف کئی روز ہسپتال میں رہے لیکن عدالت سے ضمانت کی در خواست مسترد ہونے کے اگلے روز کہا میں جیل جانا چاہتا ہوں ،شاید وہ ضمانت کی درخواست مسترد ہونے پر عدالت سے ناراض ہو گئے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے مجھے ہدایات دی جس سے پنجاب حکومت کو آگاہ کیا گیا اور وزیر اعلیٰ کے ترجمان ڈاکٹر شہبازگل نے ان سے جیل میں ملاقات کر کے علاج کی پیشکش کی اور اس کے بعد ایک خط بھی تحریر کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ 2013ء کی انتخابی مہم کے دوران عمران خان اسٹیج سے گر گئے تھے اور ان کی چوٹیںشدید نوعیت کی تھیں ،عمران خان کو علاج کے لئے باہر لیجانے کے لئے ائیر ایمبولینس تیار تھی لیکن انہوں نے کہا کہ میں پاکستان میں ہی علاج کراؤں گا ،عمران خان کی چوٹ ایسی تھی کہ ا س سے زندگی بھر معذور ہونے کا بھی خطرہ تھا ، عمران خان کے والد بھی بیمار تھے وہ بھی علاج کے لئے ملک سے باہر نہیں گئے ۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف اور نواز شریف کو بشمول اتفاق اور شریف میڈیکل سٹی کے کسی بھی ہسپتال پر اعتبار نہیں جہاں سے وہ اپنا علاج کرائیں اور یہ ایک المیہ ہے ، عمران خان اور شریف برادران کے رویوں میں یہی واضح فرق ہےکہ عمران خان عوام کے لئے سوچتے ہیں ،آج عمران خان کہاں کھڑے ہیں جبکہ یہ کہاں پہنچ گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو پیشکش کی گئی کہ وہ پاکستان میں جس ہسپتال سے چاہیں اپنا علاج کر اسکتے ہیں لیکن انہوں نے سارے معاملے کو مسترد کر دیا اور کہا کہ مجھے علاج کی ضرورت نہیں اور انہوں نے اینجیو گرافی کی بھی اجازت نہیں دی ۔نواز شریف لندن میں موجود اپنے ڈاکٹروں کو بھی پاکستان بلا سکتے ہیں ۔ پنجاب حکومت نے ان کیلئے منی کارڈیک یونٹ جیل کے باہر کھڑا کر دیا ہے جبکہ تین کارڈیک ڈاکٹرز اور ٹیکنیشن سات دن چوبیس گھنٹے موجود ہوتے ہیں ،یہ غیر معمولی اقدام ہے اور اس سے آگے بڑھ کر ممکن نہیں۔ نواز شریف او ران کی جماعت صرف یہی مقصد ہے کہ ان کی ضمانت کی درخواست عدالت میں ہے اور ان کی صحت کے حوالے سے شور شرابہ رہے ، (ن) لیگ میں ایک طبقہ ہے جو نواز شریف کی صحت پر سیاست کرنا چارہا ہے لیکن ہمارا مقصد صحت کے معاملے پر سیاست کرنا نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے خلاف مقدمات ہمارے دور میں نہیں بنائے گئے ، ججز ہم نے نہیں لگائے بلکہ جو بھی نظام ہے یہ ہم سے پہلے (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی کے ادوار میں کھڑا کیا گیا ۔ اگر نواز شریف یہ سمجھتے ہیں کہ صحت کی آڑمیں احتساب رک جائے گا تو ایسا نہیں ہوگا ۔ شریف خاندان نے جو پیسہ لوٹا ہے وہ ہمارا ، عدلیہ یا نیب کا نہیں بلکہ عوام کا پیسہ ہے اور یہ انہیں ہر صورت واپس کرنا ہوگا اورعوام کا پیسہ واپس آنا چاہیے۔ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ نواز شریف کے پاس پلی بار گین کا آپشن موجود ہے وہ اس کے لئے درخواست دیں تاکہ کارروائی آگے بڑھے۔انہوں نے کرپشن کے حجم کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ تقریباً300ارب کی ٹرانزیکشن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایون فیلڈ لندن میں فرار ی کیمپ کھلا ہوا ہے اور شریف خاندان کا جو بھی فرد یہاں سے جاتا ہے وہ واپس نہیں آتا اور وہاں بیٹھ جاتا ہے ۔ حسن ،حسین نواز ، اسحاق ڈار سمیت سب وہاں بیٹھے ہیں ۔ اگر (ن) لیگ نے سیاست سیاست کھیلنی ہے تو یہ انکی اپنی مرضی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آر آئی آر اور دیگر اداروں کے سروے آئے ہیں جس میں نواز شریف کا 20سے 21فیصد جبکہ عمران خان کا 57سے 58فیصد اپرول ریٹ ہے ۔ اس وقت ہمارے لئے کوئی سیاسی چیلنج نہیں ہے ۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہم نواز شریف کی صحت کے معاملے میں بلیک میل ہو رہے ہیں اور اسکی وجہ آپ لوگ ہیں(میڈیا ہے )۔میڈیا والے کہتے ہیں کہ اتنا بڑا لیڈر ہے علاج نہیں ہو رہا ۔ سندھ میں گزشتہ سال بنیادی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے جیلوں میں 92قید یوں کا انتقال ہوا ،پنجاب میں بھی کئی اموات ہوئی ہیں لیکن یہ ہماری سوسائٹی ہے ۔انہوں نے کہا کہ جو پارٹی پچیس ، تیس سال صوبے میں بر سر اقتدار رہی ہو اس نے کوئی ایسا ہسپتال نہیں بنایا جہاں ان کا علاج ہو سکے ۔ آج ہماری حکومت کو صحت کے پورے نظام کو بنیاد سے شروع کرنا پڑ رہا ہے ،سمجھ نہیں آتی نواز شریف اور شہباز شریف کس پر تنقید کر رہے ہیں ۔ یاسمین راشد نے کہا کہ ہمارے ملک میں بہترین ڈاکٹرز موجود ہیں او ران کا تجربہ دنیا کے دیگر ڈاکٹرز سے زیادہ ہے ۔ نواز شریف ہسپتالوں پر تنقید کرتے ہیں پی آئی سی میں 15ہزار اینجیو پلاسٹی ، 3 ہزار بائی پاس اور 20ہزار اینجیو گرافی ہوئی ہے..

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں