31

پاکستان بنائو سرٹیفکیٹ سے تین ماہ میں 50 کروڑ ڈالرز متوقع

اسلام آباد (ویب ڈیسک) تحریک انصاف کی حکومت نے پاکستان بنائو سرٹیفکیٹس (پی بی سی) میں سرمایہ کاری کے لئے فارن اکائونٹس رکھنے والے پاکستانیوں پر کوئی پابندی نہیں لگائی ہے۔ پاکستان رواں سال جون تک اس اسکیم کے ذریعے 30 کروڑ سے50 کروڑ ڈالرز تک حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اعلیٰ افسران نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ وہ تمام غیرملکی اکائونٹ ہولڈرز جو کے وائی سی (نو یوور کسٹمر) کے زمرے میں آتے ہیں وہ پی بی سی میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔ وزارت خزانہ کے مشیر ڈاکٹر خاقان نجیب نے رابطہ کرنے پر کہا کہ دنیابھر میں جہاں پاکستانی آباد ہیں وہاں اس اسکیم میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے لئے بھرپور مہم شروع کی جائے گی۔ اس سے قبل یورو بانڈ اور سکوک ادارہ جاتی سرمایہ کاری کے لئے تھے جہاں انفرادی سرمایہ کاری کے لئے حد کم از کم ڈھائی لاکھ ڈالرز تھی جب کہ پی بی سی کے تحت سرمایہ کاری کی کم از کم حد 5000 ہزار ڈالرز ہے۔ ڈاکٹر خاقان نجیب کے مطابق بیرون ممالک مقیم 85لاکھ پاکستانی پی بی سی سے استفادہ کر سکتے ہیں جس سے حاصل سرمایہ انفرا اسٹرکچر، سڑکوں کی تعمیر، ٹرانسپورٹ، آبی وسائل کی بہتری، صحت اور تعلیم کی مد میں خرچ کیا جائے گا۔ یہ بیرون ممالک پاکستانیوں کے لئے اپنی سرمایہ کاری پر برابر کا منافع کمانے کا بھی موقع ہے۔ ساتھ ہی وہ ملک کی تعمیر و ترقی میں بھی اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ حکومت ادائیگیوں میں توازن کے استحکام کو یقینی بنانے کے لئے کثیرالجہتی حکمت عملی اختیار کئے ہوئے ہے جس میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری، اثاثوں کی فروخت وغیرہ شامل ہے۔ پی بی سی اسکیم کا مقصد سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے علاوہ زرمبادلہ ذخائر کو بھی مستحکم کرنا ہے۔ بیرون ممالک مقیم اپنے باشندوں کی تعداد کے لحاظ سے پاکستان دنیا کا چھٹا بڑا ملک ہے جنہیں اپنی بچت کو چینلائز کرنے میں مدد دی جا رہی ہے۔ حکومت پاکستان ہی مذکورہ سرٹیفکیٹس جاری کر رہی اور وہی اس کی ضامن بھی ہے۔ برطانیہ میں اس طرح کی اسکیم پر شرح سود 0.8 فیصد (تین سال کے لئے) اور ایک فیصد (5سال)، امریکا میں تین سال کے لئے 2. 55فیصد اور 5سال کے لئے 2.56 فیصد ہے جب کہ پاکستان میں شرح تین سال کے لئے 6. 25فیصد اور 5 سال کے لئے 6.75فیصد ہے۔ منافع ہر 6 ماہ بعد ادا کیا جائے گا۔ اس اسکیم کو جاری رکھنے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ڈیڈ لائن کے خاتمے پر حکومت اس کا جائزہ لے گی۔ فی الحال تو ٹائم فریم کے اندر سرمایہ کاری لانے پر توجہ مرکوز ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں