28

کون کونسی چیزیں پلاسٹک کے شاپروں میں لے کرجانے پرپابندی نہیں؟ نوٹیفیکیشن جاری

اسلام آباد(آن لائن) ڈپٹی کمشنر اسلام آباد محمد حمزہ شفقت نے شاپنگ بیگز کے استعمال پر پابندی کے باعث صارفین کو درپیش مشکلات کے پیش نظر ان سے کہا ہے کہ وہ موبائل فون کی طرح کپڑے کے بیگز بھی اپنے ساتھ رکھیں ۔ ماحول کو صاف ستھرا رکھنے کے لئے عوام تعاون کرے ۔اس سلسلے میں آن لائن نے جب ڈی سی اسلام آباد محمد حمزہ شفقت سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ 2013 میں یہ پالیسی مرتب کی گئی تھی ۔ لیکن لاگو نہیں ہو سکی ۔ اس کے بعد 2019 ء میں ایک مکمل مشاورتی عمل کے بعد جس میں پلاسٹک صارفین ، پلاسٹک بنانے والے ، وکیل ، ایڈمنسٹریشن شامل تھے مرتب کیا اور 14 اگست 2019 ئو اسلام آباد میں لاگو کیا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک سلسلہ وار عمل ہے پہلے مرحلے مین کیئر بیکز ( سامان لے جانے والے ) تھیلوں پر پابندی عائد کی لیکن جو چیزیں خراب ہوتی ہیں مثلاً دودھ ، دہی وغیرہ ان پر پابندی نہیں ہے ۔ اس سے پہلے کئی ممالک جن میں کینیا بھی شامل ہے وہاں بھی اس پالیسی پر عمل کیا جا رہا ہے اور کوئی بھی ملک اس کا متبادل نہیں دے رہا اور ہم ان ممالک سے سیکھ رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہم 70 ، 80 فیصد کامیاب ہوئے ہیں مگر ابھی بھی کچھ مشکلات ہیں جس پر کام ہو رہا ہے ۔ پلاسٹک بیگز کے دوسروں شہروں سے منتقلی پر ڈی سی نے کہاکہ چونکہ EPA کے پاس عملہ کم ہے اور ہم الگ ناکوں کا بندوبست نہیں کر سکتے تو جو اسلام آبادکے داخلی راستوں پر پہلے سے ناکے ہیں ہم پولیس کو ٹریننگ دے رہے ہیں ۔ بغیر ہینڈل کے بیگز ( فلیٹ بیگز) کے بارے میں ڈی سی نے بتایا کہ فلیٹ بیگز بنانے والے کو پہلے EPA سے اجازت لینا ہوتی ہے جس کا طریقہ کار یہ ہے کہ پہلے وہاں ایک فارم پر کرنا ہوتا ہے اور 10 ہزار روپے جمع کرانے ہوتے ہیں اور اس کے بعد اس کو اجازت ملتی ہے اور جو فلیٹ بیگز بنائے جاتے ہیں اس پر مذکورہ پلانٹ کا مہر لگا ہونا ہے بیگز بنانے والے کو اس فلیٹ بیگز کی ری سائیکل کرنے کے لئے پالیسی بھی EPA کو دینی ہوتی ہے جس کے بعد اسے اجازت ملتی ہے ۔آخر میں انہوں نے عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں چاہئے کہ کپڑے کے تھیلے کو ہم اپنی زندگی کے روزمرہ استعمال ہونے والی اشیاء مثلاً موبائل پرس وغیرہ کی طرح ضروری سمجھ کر اپنی گاڑی سے موٹر سائیئکل میں رکھیں تاکہ ماحول کو صاف رکھیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں