104

کب سے پنپ رہا ہے ترے لب پہ چھل کا سانپ

کب سے پنپ رہا ہے ترے لب پہ چھل کا سانپ

ڈسنے لگا ہے دل کو وہ بن کر عمل کا سانپ

آج اور آستیں سے نکل آیا دفعتا

مارا نہیں گیا ہے ابھی تک تو کل کا سانپ

مانگیں تھی بارشیں کہ نمویاب ہو سکیں

کیا ہو،نگل گیا مری بستی جوجل کا سانپ

بے کار ہی گئیں مری جانب شرارتیں

رُخ پھیرنے لگا ترے افکارِ شل کا سانپ

آخر گراوٹوں نے گرا ہی دیا تجھے

کھا ہی گیا تجھے ترے پیچاک و بل کا سانپ

کھلیان آج بھی مرے خالی پڑے رہے

ڈس کر نکل گیا کہیں فصلِ امل کا سانپ

ہونے لگی ہے خواہشِ معصوم نیلگوں

احساس پر لپٹ گیا مصروف پل کا سانپ

اے کاش ابتدا میں کچل دیتے صائمہ

یوں تو نہ پالتے مرے پیارے جہل کا سانپ

صائمہ اسحاق

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں