101

جےیوآئی نے خواتین صحافیوں کوآزادی مارچ کی رپورٹنگ سے کیوں روک دیا…؟

خواتین صحافیوں کو جمیعت علمائے اسلام کی طرف سےآزادی مارچ کی رپورٹنگ کرنے سے روک دیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطا بق جمعیت علماء اسلام نے خواتین سے امتیازی سلوک روا رکھتے ہوئے خواتین صحافیوں اور اینکرز کو آزادی مارچ کی کوریج سے روک دیا ہے اور پیشہ وارانہ امور کی انجام دہی کے لیے آنے والی خواتین میڈیا ورکرز کو واپس بھی بھیج دیا۔
ذرائع کے مطا بق انصارالسلام کے رضا کاروں نے خواتین صحافیوں کو پنڈال میں جانے کی اجازت نہیں دی۔
وفاقی وزیرزرتاج گل نے اپنے رد عمل میں دیا کہ خواتین ارکان ہر پارٹی کا حصہ ہیں، کسی خاتون کوجلسےکی کوریج یا سیاسی سرگرمی سے نہیں روکا جاسکتا۔
پاکستان پیپلزپارٹی کی رہنما شہلارضا نے اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ آزادی مارچ فضل الرحمان کا پروگرام ہے، ہم نے کم سے کم ایجنڈا پر آزادی مارچ میں شمولیت اختیار کی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ خواتین کی شرکت پر پابندی لگانا فضل الرحمان کا اپنا نظریہ ہے۔
وفاقی وزیرشیریں مزاری کا کہنا ہے کہ ہر جماعت کا اپنا نظریہ ہے لیکن صحافیوں کو روکنا غلط ہے، آزادی مارچ میں خواتین کو شامل نہ کرنا فضل الرحمان کا اپنا نظریہ ہے، ہماری جماعت میں خواتین صحافیوں پرپابندی جیسی کوئی سوچ نہیں۔
وا ضح رہے کہ آج مولانا فضل الرحمان کے خطاب کے سلسلے میں جب خواتین رپورٹرز اور اینکرز اپنی پیشہ وارانہ امور کی انجام دہی کے لیے مارچ میں پہنچیں توانہیں روکا گیا اور کوریج کے لیے پنڈال میں بھی جانے سے منع کردیاگیا۔
سیکورٹی پر مامور پارٹی کارکنان نے خواتین میڈیا ورکرز کو بتایا کہ میڈیا سمیت تمام خواتین کی مارچ میں شرکت ممنوع قرار دی گئی ہے لہذا وہ اس حوالے سے پارٹی ہدایات پر سختی سے عمل پیرا ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں