82

بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے،استعفیٰ کا مطالبہ مسترد، وزیراعظم عمران خان کا دوٹوک اعلان

اسلام آباد (این این آئی)وزیراعظم عمران خان نے آزادی مارچ کے دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کی صورت میں وزارت داخلہ کو تیار رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاہے کہ اپوزیشن کیساتھ حکومت نے معاہدہ کر کے انہیں جمہوری حق دیا، اگر معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی تو قانون اپنا راستہ خود بنائیگا۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز آزادی مارچ کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم کو مستعفی ہونے کے لیے 48 گھنٹے کا الٹی میٹم دیا تھا۔ہفتہ کو یہاں حکومتی مذاکراتی کمیٹی کا اجلاس چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی رہائش گاہ پر ہوا جس میں آزادی مارچ سے متعلق مذاکرات کی حکمت عملی پر مشاورت کی گئی۔اجلاس کے بعد حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے بنی گالا میں وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کر کے اپوزیشن کے مطالبات کے حوالے سے بریفنگ دی۔مذاکراتی ٹیم سے ملاقات میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اپوزیشن کے ساتھ حکومت نے معاہدہ کر کے انہیں جمہوری حق دیا تاہم اگر معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی تو قانون اپنا راستہ خود بنائے گا۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم کا کہنا تھا کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دے سکتے، اور اپوزیشن کے غیر جمہوری اور غیر آئینی مطالبات تسلیم نہیں کر سکتے۔ذرائع کا کہنا ہے عمران خان نے حکومتی کمیٹی کو رہبر کمیٹی سے بات چیت جاری رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ملاقات کے بعد آگاہ کیا جائے کہ اپوزیشن کون سا جمہوری حق مانگ رہی ہے۔ذرائع کے مطابق فیصلہ کیا گیا کہ آئین اور قانون کے مطابق اپوزیشن کے جائز مطالبات ماننے کیلئے تیار ہیں۔وزیراعظم نے اپوزیشن کی طرف سے استعفے کے مطالبے کو حماقت قرار دیتے ہوئے حکومتی کمیٹی کو ہدایت کی کہ اپوزیشن نے بلیک میل کرنے کی کوشش کی تو مذاکرات نہیں ہونے چاہئیں۔وزیراعظم عمران خان نے وزارت داخلہ کو تیاری مکمل رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے پرفوری کارروائی کی جائے۔وفاقی وزیر داخلہ بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ کا کہنا ہے کہ وفاقی دارالحکومت کے شہریوں کے حقوق متاثر نہیں ہونے دیں گے۔کور کمیٹی کا کہنا ہے کہ آزادی مارچ کے شرکاء جہاں بیٹھے ہیں وہیں رہیں گے تو حکومت کوئی کارروائی نہیں کرے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں