مظفرآباد(اسلام آباداپ ڈیٹس)محکمہ زراعت آزادکشمیر میں نرسریوں کے نام پر لاکھوں روپے کی کرپشن کا انکشاف ،25روپے کا پودا 100روپے میں فروخت کیا جانے لگا ۔ حالانکہ محکمہ میں تشکیل نو کے بعد خریداری کا سارا نظام پرائیویٹ سیکٹر میں چلا گے تھا۔ محکمہ کے ڈائریکٹر جنرل کی آشیر باد، نان ٹیکنیکل شخص کو خریداری پر مامور کر دیا۔ موصوف نے لاہور میں ڈیرے ڈال لیے ۔ بیچ کی خریدداری کا کام ریسرچ آفیسر جبکہ پودوں کی خریداری فروٹ اینڈ ویجیٹیبل سپیشلسٹ کی زمہ داری ہے ،جبکہ ڈھلائی کا کام سرکاری گاڑیوں پر دھڑلے سے جاری ،جعلی بلات مرتب کر کے خزانے سے بھاری رقوم بھی وصول کی جانے لگیں ۔ پاکستان کے شہروں سے سستے داموں پودا جات خرید کر بیلدران اور فیلڈ سٹاف کو مہنگے داموں فروخت کیے جاتے ہیں ۔ اس لیے مال بناؤ مہم زور و شور سے جاری ہے ۔ موصوف کینڈا میں مزے کرنے لگے ۔ محکمہ زراعت و ریسرچ توسیع کے زمہ داران ہر سال حسب روایت شجرکاری کیلئے اپنی نرسریاں تیار کرنے کے بجائے پاکستان میں قائم نرسریوں سے ناکارہ اور بیمار پودے ارزاں نرخوں پر خرید کر مہنگے داموں فروخت کر کے زمیندران سے لاکھوں روپے وصول کر لیتے ہیں ۔ راجہ ظہیر نامی شخص ایگری بزنس پراجیکٹ کا انچارج ہے۔ کمیشن دینے کی وجہ سے خریداری پر مامور کے گیا ہے ۔ حالانکہ ایسے نان کوالیفائڈ شخص کو نہ تو بیچ اور نہ ہی پودوں بارے کوئی تجربہ ہے ۔ اس سے قبل زرعی قرضہ جات پر مامور کے دوران موصوف نے جن لوگوں کو قرضہ جات دیے ان لوگوں نے نرسریاں ،زرعی سٹور، باغات اور سبزیات کے پلاٹ نصب کرنے کے بجائے صرف کاغذوں میں تمام پراجیکٹ بھی موجود نہ ہے۔ محکمہ زراعت ان افراد کا 17فیصد مارک اپ آج بھی بنکوں کو ادا کر دیا ہے ۔ سینئر پراجیکٹ کو ابھی تک عوام سے مخفی رکھا گیا ہے تاکہ اپنے مذموم مقاصد کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جاسکے ۔ اس پراجیکٹ میں بھی لاکھوں روپے کی خریداری ہونے کا انکشاف ہوا ہے ۔
231