جہلم ویلی(اسلام آباداپ ڈیٹس)آزادکشمیر کے محکمه تعمیرات عامه .برقیات .جنگلات.و دیگر محکمه جات کے ورکچارج ملازمین عرصه بیس بیس اور پچیس سالون سے عارضی بنیادون پر کام کرنے پر مجبور.حکمرانون کی عدم دلچسپی سوالیه نشان بن چکی هے.مگر انکو مستقل کرنے کا حکومت کے پاس کوی ایجنڈه نهین هے.عرصه دراز سے عارضی بنیادون پر کام کرنے والے اس محنت کش طبقه کی عمرین بهی اوور هونے لگ گئ.نه صرف انکی مستقلی کا معامله حل هو رها هے بلکه ورکچارج بنیادون پر کام کرنے والے اس محنت کش طبقه نو نو هزار روپے ماهوار تنخواه دیکر ٹرخایا جا رها هے.حکومتی نوٹیفکیشن کے مطابق محنت کش کی کم سے کم اجرت پندره هزار مقرر کر رکهی هے مگر بیوروکریسی اس نوٹیفکیشن پر عمل درآمد کرنے کے بجاے روڑے اٹکا رهی هے.بیوروکریٹس جو ماهانه ستر هزار اور لاکه لاکه روپے تنخواه حاصل کرنے کے باوجود بهی خوش نهین کیا مزدور مهنگای کے اس دور مین نو هزار لیکر گزر بسر کر سکتا هے.وزیراعظم آزادکشمیر و چیف سیکرٹری آزادکشمیر تعمیرات عامه سمیت جمله محکمه جات کے ورکچارج ملازمین کی کم سے کم تنخواه کو حکومتی نوٹیفکیشن کے مطابق عمل درآمد کروائین اور انکی مستقلی کے حوالے سے اسمبلی فلور پر قانون سازی کرین تاکه انکا مستقبل محفوظ هو سکے.
247