میرپور(عتیق احمد سدوزئی+ وقاص صدیق) سوائن فلو نے آزادکشمیر کا رخ کر لیا، ڈی ایچ کیو ہسپتال میرپور کی ڈپٹی نرسنگ سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر مدثرہ الماس سوائن فلو سے جاں بحق،ڈی ایچ کیو ہسپتال کی ایک مزید نرس جبکہ سہنسہ میں ایک خاتون میں سوائن فلو کی تصدیق، ڈی ایچ کیو میں ڈاکٹرز اور نرسنگ اسٹاف کے 8 افراد میں سوائن فلو پائے جانے کا امکان۔سوائن فلو کی تشخیص کے لئے نہ لیبارٹری دستیاب نہ علاج کے لئے ادویات، بڑے خطرے نے سراٹھا لیا۔ تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال میرپور کی ڈپٹی نرسنگ سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر مدثرہ الماس شفاء ہسپتال اسلام آباد میں انتقال کر گئیں۔ فوت ہونے والی مدثرہ الماس میں سوائن فلو کی تصدیق نے خطرے کی گھنٹی بجا دی۔ ذرائع کے مطابق ڈاکٹر مدثرہ کو زکام کی شکایت کئی روز سے تھی مگر سادہ زکام کی ادویات لیتی رہیں اور جب زکام کے ساتھ انکی سانس بند ہونا شروع ہو گئی اور حالت بگڑ گئی تو انہیں ڈی ایچ کیو ہسپتال میں منتقل کیا گیا جہاں سے فوری طور پر انہیں اسلام آباد ریفر کر دیا گیا جہاں پر ان میں سوائن فلو وائرس کی تصدیق ہو گئی تاہم تب تک مرض اس قدر پھیل چکا تھا کہ وہ جاں بر نہ ہو سکیں ۔ ڈاکٹر مدثرہ الماس کے ساتھ رہنے والی ایک نرس شمائلہ میں بھی سوائن وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جنہیں علاج کیلئے اسلام آباد ریفر کیا گیا ہے جبکہ نرسنگ ہاسٹل اور ڈاکٹر مدثرہ الماس کے ساتھ کام کرنے والے مزید 8 افراد میں سوائن فلو کی علامات کے سبب خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ ان میں بھی سوائن فلو کا وائرس ہو سکتا ہے۔ سوائن فلو سے ڈاکٹر مدثرہ الماس کی فوت ہونے والی مدثرہ الماس کی خبر سنتے ہی اعلیٰ سطحی میڈیکل بورڈ تشکیل دیدیا گیا ہے، گزشتہ روز مظفرآباد سے محکمہ صحت کے سینئر ڈاکٹرز کی ٹیم نے ڈاکٹر صابر کی سربراہی میں ڈی ایچ کیو ہسپتال میرپور کا دورہ کیا اور ڈاکٹر مدثرہ الماس کے ہاسٹل میں رہنے والی نرسوں، انکے ساتھ کام کرنے والے سٹاف اور دوران علالت انکی دیکھ بھال کرنے والے ڈاکٹرز کے خون کے نمونے بھی حاصل کئے گئے جنہیں اسلام آباد جانچ کیلئے بھیجا گیا ہے۔ دوسری جانب سہنسہ ضلع کوٹلی کی ایک خاتون میں بھی سوائن فلو کا وائرس پایا گیا ہے اور انکا علاج بھی اسلام آباد میں ہو رہا ہے جبکہ منگلا میرپور کے رہائشی ایک نوجوان نے گزشتہ دنوں ڈی ایچ کیو ہسپتال میں اسی قسم کی علامات کی شکایت کی جس پر ڈاکٹرز نے اسے اسلام آباد ریفر کیا تاہم نوجوان نے پرائیویٹ طور پر اپنے ٹیسٹ کروائے اطلاعات کے مطابق نوجوان میں وائرس نہیں پایا گیا تاہم ڈاکٹرز کا خیال ہے کہ اس نوجوان میں بھی سوائن فلو کا وائرس ہو سکتا ہے تاہم سوائن فلو کے لئے ٹیسٹ کی سہولت اور متعلقہ تجربہ نہ ہونے کے سبب ہو سکتا ہے کہ اسکا ٹیسٹ ٹھیک نہ ہوا ہو۔ اسی طرح ڈی ایچ کیو ہسپتال کے ایک سینئر میڈیکل آفیسر نے کشمیر ٹائمز سے گفتگو میں بتایا کہ ڈی ایچ کیو ہسپتال میرپور میں مزید 8 افراد میں سوائن فلو کی علامات پائی جا رہی ہیں جس کے بعد خدشہ ہے کہ بڑے پیمانے پر سوائن فلو کے کیسز سامنے آ سکتے ہیں۔ آزادکشمیر میں سوائن فلو کی تشخیص کے لئے کوئی لیبارٹری دستیاب نہیں ہے اور نہ ہی علاج کے لئے ادویات دستیاب ہیں جس کی وجہ سے خدشہ ہے کہ بڑے پیمانے پر سوائن فلو کے متاثرہ مریض سامنے آ سکتے ہیں۔
میرپور(تحقیقاتی رپورٹ) کلاسیفائیڈ سینئر میڈیکل سپیشلسٹ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میرپورپروفیسر آف میڈیسن ڈاکٹر طارق مسعود نے کشمیر ٹائمز سے گفتگوکرتے ہوئے بتایا کہ آزادکشمیر میں سوائن فلو کی تشخیص کے لئے کوئی لیب موجود نہیں ہے جبکہ TAMIFLU 75mg کیپسول سوائن فلو کے مریضوں کو دیئے جاتے ہیں تاہم یہ دوائی نہ صرف آزادکشمیر بلکہ پاکستان میں بھی عام دستیاب نہیں ہے، صرف اسلام آباد میں ایک بڑے ہسپتال میں یہ دوائی دستیاب ہے مگر وہ بھی انہوں نے اپنے سٹاف کیلئے رکھی ہے۔ موجودہ صورتحال انتہائی تشویش ناک ہے اور حکومت آزادکشمیر کو فوری طور پر سوائن فلو کے مریضوں کے لئے یہ دوائی بڑی مقدار میں خرید کر سرکاری ہسپتالوں میں رکھنی چاہیے تاکہ بروقت مریضوں کو علاج کی سہولت مل سکے کیونکہ یہ مرض جب تک تشخیص ہوتا ہے یا اسکی علامات سامنے آتی ہیں تب تک مریض کی حالت تشویش ناک ہو چکی ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کو ہنگامی طور پر آزادکشمیر میں سوائن فلو کی تشخیص کے لئے لیبارٹری کی سہولت فراہم کرنی چاہئے تاکہ بروقت تشخیص سے مرض پر قابو پایا جا سکے۔
سوائن فلو کیا ہے اور علاج کیسے ممکن ہے؟
میرپور(تحقیقاتی رپورٹ)آزادکشمیر کے علاوہ اسلام آباد سمیت پنجاب کے کئی شہروں میں ااس فلو کے باعث متعدد لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور کئی ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں جبکہ آزادکشمیر میں بھی تین مریضوں میں سوائن فلو کی تشخیص ہونے کے بعد خدشہ ہے کہ بڑی تعداد میں لوگ اس مرض میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔ دو ہزار چودہ میں بھی جنوبی پنجاب میں سوائن فلو کے کیسز ریکارڈ کیئے گئے تھے لیکن دوہزار پندرہ سے اس مرض نے زور پکڑنا شروع کردیا ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے اسے ایک موذی مرض قرار دے دیا ہے۔ کسی بھی عا م فلو کی طرح دکھنے والے ایچ 1این1وائرس،سوائن فلو کی شدت میں،آنے والے سالوں میں مزید اضافہ ہونے کا خطرہ ہے۔ یہ مرض انسانوں میں کھانسی، چھینکنے اور متاثرہ شخص کے جسمانی سیال سے اتصال کی وجہ سے جسم میں داخل ہوتا ہے۔ پاکستان کے طبی ماہرین کا ماننا ہے کہ سوائن فلو کی روک تھام کے لیے لوگوں میں اس کی علامات، احتیاطا ور علاج کے بارے میں مناسب معلومات کا عام ہونا ضروری ہے۔
علامات
تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ سوائن فلو کی علامتیں کسی بھی عام موسمی فلو ہی کی طرح ہوتی ہیں جن میں بخار، کھانسی، گلے میں سوزش، سر درد، پٹھوں اور جوڑو ں میں درد، بند ناک، جسم کا ٹوٹنا، سردی لگنا اور چکر آنا شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بعض لوگوں کو ڈائریا اور الٹی کی شکایت بھی ہوجاتی ہے۔ سوائن فلو ہونے کا سب سے زیادہ خطرہ چھوٹے بچوں، عمر رسیدہ افراد، حاملہ خواتین، ایستھما کے مریض، سگریٹ نوشی کرنے والے افراد، امراض قلب میں مبتلا مریض اور وہ لوگ شامل ہیں جن کی قوت مدافعت کمزور ہو۔
بچاؤ کے طریقے
سوائن فلو سے بچنے کا بہترین طریقہ اپنی اور اپنے آس پاس صفائی اور ہائجین کا خیال رکھنا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ پابندی سے ہاتھ دھوئے جائیں، چھینکتے یا کھانستے ہوئے منہ پر کوئی کپڑا رکھا جائے اور فلو میں گرفتار شخص سے کم از کم ایک بازو جتنا فاصلہ رکھا جائے۔ اسکے علاوہ صحت بخش غذا کا استعمال، مکمل نیند اور آرا م کا خیال بھی اس مرض سے محفوظ رہنے میں کارآمد ہیں۔ سوائن فلو کے مریض سے ہاتھ ملانے، گلے لگنے اور کھلی جگہ پر تھوکنے سے گریز کرنا چاہیے۔سوائن فلو کے مریض کو کوشش کرنی چاہیے کہ وہ پوری طرح صحت یاب ہوجانے تک گھر میں ہی رہے۔ اس سے بچنے کے لیے ٹیکے بھی لگوائے جاتے ہیں جو کہ مرض کو جسم میں پھیلنے نہیں دیتے۔ خاص طور سے وہ لوگ جن کو سوائن فلو کا خطرہ زیادہ ہے، انہیں فلو شاٹ ضرور لگوا لینے چاہیں۔
علاج اور گھریلو ٹوٹکے
یوں تو علاج کے طریقے کا تعین ڈاکٹر کے مشورے سے ہی کیا جاتا ہے تاکہ مکمل تشخیص ہو سکے۔ البتہ عموماًاس کے علاج کے لیے ابتدائی طور پر اینٹی بائیو ٹیک دی جاتی ہیں۔ مرض ہونے سے پہلے سوائن فلو کے ٹیکے بھی لگائے جاتے ہیں۔اس کے علاوہ سوائن فلو کے علاج کے لیے ناک کے اسپرے بھی ایجاد ہو چکے ہیں تاہم حاملہ خواتین کو یہ اسپرے استعمال کرنے سے منع کیا جاتا ہے۔
ویسے تو سوائن فلو ہونے پر ڈاکٹرز کی نگرانی میں مناسب علاج کروانا لازمی ہے لیکن گھر بیٹھے ان باتوں کا خیال رکھ کر بھی سوائن فلو سے چھٹکارا حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے:
*سوائن فلو ہونے پر جسم میں پانی کی کمی ہونے لگتی ہے۔ ایسے میں پانی کا استعمال بڑھانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ پانی کی کمی سے بچنے کے لیے پانی کے ساتھ ساتھ جوسز اور گرم سوپ کا استعمال بھی ضروری ہے۔
*اس مرض میں آرام کرنا بے حد ضروری ہے۔ جس وقت مریض آرام کرتا ہے اس وقت اس کا مدافعتی نظام انفیکشن کا مقابلہ کرتا ہے۔
*روزآنہ صبح تلسی کے پانچ پتے دھو کر لینا اس مرض سے مقابلے کرنے میں مدد مہیا کرتا ہے۔ تلسی کے پتے گلے اور پھیپڑوں کو صاف کرتے ہیں اور قوت مدافعت کو بہترکرتے ہیں۔
*لہسن ایک بہترین اینٹی انفیکشن غذا ہے۔ روزآنہ نہار منہ لہسن کے دو جوئے چھیل کر کھانے سے مرض میں آرام آتا ہے۔ لہسن کو ہلکے گرم پانی کے ساتھ استعمال کریں۔
*دودھ میں ہلدی ڈال کر پینا بھی قود مدافت کو بڑھاتا ہے۔ البتہ اس بات کا خیال رکھناضروری ہے کہ مریض دودھ سے ایلرجک نہ ہو۔
*ایلو ویرا جیل کا ایک چھوٹا چمچ روزآنہ پانی کے ساتھ لینا نہ صرف جلد اور جوڑوں کے لیے مفید ہے بلک مدافعتی نظام کے لیے بھی فائدے مند ہے۔
*سوائن فلو کے مریض رس والے پھلوں کا استعمال کریں جو وٹامن سی سے بھرپور ہوں۔ ساتھ ہی آملے کا جوس پینا بھی فلو سے نجات حاصل کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے